Hazrat Ibrahi Adham and a Fruit

 حضرت ابرہیم ادہم اور


 پھل
حضرت ابرہیم ادہم اور پھل




ایک مرتبہ حضرت ابراہیم بن ادہم بیت المقدس تشریف لے گئے مسجد عمر رضی اللّٰہ عنہ میں رات بھر عبادت کرنے کے شوق میں ایک بورے میں چھپ کر پڑے رہے ، کیونکہ اس مسجد میں رات کو کوئی نہیں رک سکتا تھا انہوں نے یہاں کئی راتیں عبادت میں گزار دیں لیکن نماز میں وہ مزہ نہ آیا جو پہلے آیا کرتا تھا۔
روتے بے حال ہو جاتے اور رب تعالٰی سے توبہ و استغفار کرتے کہ خدایا مجھ سے کون سا گناہ سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے یہ عبادت کا مزہ جاتا رہا۔
 اسی بے کیفی میں 40 شب و روز گزر گئے۔ ایک شب ابھی یہ بورے سے نکلے بھی نہ تھے کے خلاف معمول مسجد کا دروازہ کھلا اور تقریبا 40 کمبل پوش مسجد میں داخل ہوئے ان میں ایک امام بنا اور باقی مقتدی۔
 انہوں نے نماز پڑھی اور اس کے بعد جو امام تھا وہ محراب کی طرف پشت کر کے بیٹھ گیا اور مقتدی اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ ان میں ایک شخص نے محسوس کیا اور کہنے لگا کہ ہمارے علاوہ کوئی اور موجود ہے امام نے مسکراتے ہوئے کہا یہاں ابراہیم بن ادھم موجود ہیں اور چالیس دن بےکیف عبادت میں گزار چکا ہے۔
حضرت ابرہیم بن ادہم اس کے سامنے کھڑے ہوگئے اور دریافت کیا حضرت میں آپ سے متعارف تو نہیں ہوں لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ آپ روشن ضمیر ہیں کیونکہ آپ نے میری عبادت اور اس کی بے کیفی کی بابت ارشاد فرمایا وہ بالکل درست ہے خدا کے لیے اب یہ بتا دیں کہ ایسا کیوں ہے؟؟
بزرگ نے کہا بیت المقدس آنے سے پہلے آپ نے بصرہ میں ایک پھل فروش سے پھل خریدے تھے ان پھلوں میں ایک ایسا پھل بھی شامل تھا جو ان کے علاوہ تھا جو تم نے خریدا نہیں تھا۔
اب وہی پھل تمہاری عبادت کی بے کیفی کی وجہ ہے۔
 حضرت ابراہیم نے صبح کو بیت المقدس کو چھوڑا اور بصرہ پہنے اور اس پھل فروش سے ملے اور اسے ساری حقیقت بیان کی اور کہا کہ یا تو مجھے معاف کر دو یا مجھ سے پھل کی قیمت لے لو۔
وہ ان سے اتنے متاثر ہوئے کہ نہ صرف انھیں معاف کیا بلکہ ان کے ارادت مندوں میں شامل ہو گئے۔
ہی اللّٰہ کے نیک بندے تھے سہوا بھی کسی کی حق تلفی ہو جاتی تو ان پر اس کے اثرات ظاہر ہو جاتے۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

حسد کا انجام

Romantic Ghazal

Parabola-Explained-A-to-Z