Sabaq amoz kahani

 Sabaq amoz kahani


Sabaq amoz kahani

ایک مرتبہ میں اور میرا چھوٹا بھائی دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ شکار کیوں عرصے سے ایسے غزل سرا کی جان نکل گیا جو چار سو کلومیٹر کے وسط میں تھا وہاں متعدد دن گزارنے کے بعد میں نے اور میرے بھائی نے واپسی کا پروگرام بنایا اور مشرق کی جانب ایک غلط راستے پر چل پڑے ایک عرصے کے بعد ہم نے گاڑی والے کو دیکھا اسے پٹرول کی کیا اور شمال کی جانب روانہ ہو گئے راستے میں گاڑی خراب ہوگئی اور آہستہ رفتار سے چلنے لگی لگی آج بیان جمعہ کی صبح سے چلے ہوئے تھے اور شام ہمیں ایسے علاقے میں ہوئی جو چھوٹے چھوٹے درختوں سے جو ریت سے اٹے پڑے تھے بھرا پڑا تھا وہاں پرانی تہذیب کی شکستہ گاڑی پر نظر پڑی تو دل میں خیال آیا وہاں جاتے ہیں شاید ہماری گاڑی کی ٹریننگ کا سامان مل جائے لیکن وہاں گاڑی والے کی ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا لگتا تھا صحرا کی وحشت اس کی جان لے چکی تھی ہمارے دلوں میں سرایت کرنے لگا زراعت شروع ہونے والا ہے اوپر سے گاڑی بھی بند ہو چکی تھی میں نے اسٹارٹ کرنے کی بھر ہر کوئی چیز کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا حالانکہ گاڑی باہر نظر آرہی تھی لیکن سٹار نہیں ہو رہی تھی بار بار بھی نہیں کر رہا تھا کہ بیٹری ختم نہ ہو جائے گے لگا گھنی بادل منڈلا رہے تھے اور موسم بارشیں نہ ٹھنڈا ہوگیا ادھر وہ مردہ جسم اور ہڈیوں ہماری قریب پڑی تھی اللہ تعالی کی جانب متوجہ ہوگئے اور آزاری کرنے لگے وہ مشکل تھا کہ گاڑی سٹارٹ کرو اور ایک نہاد دل پہ تھا چابی گھمائی لیکن گاڑی نہ لینے کی کوشش کی تو اچانک گاڑی چل گئی میں سجدہ ریز ہو گیا یا پھر جلدی سے گاڑی میں سوار ہوئے اور اس جگہ کو پیچھے چھوڑ کر کھائیں گھنٹوں کی مسافت کے بعد ایک گاڑی کی لائٹ دیکھتی اس کی مسافت کتنی ہے اس نے کہا ہاں دو سو پچاس کلومیٹر ہے ہم نے قریب ترین راستے کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ پچاس کلومیٹر کی دوری پر ہے ہم اس کی جانب بڑھے اور گاڑی کا اندازہ ہوگا کہ بارش تھی جب فجر کا وقت ہوا تو نماز ادا کی اور منزل پر گامزن ہوگئے گئے ہم نے اس سے یہ سبق حاصل کیا جب تو ہم اللہ تعالی کی طرف رجوع کیا یا اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لی تو اللہ تعالی نے نے راستہ دکھا دیا

Comments

Popular posts from this blog

حسد کا انجام

Romantic Ghazal

Parabola-Explained-A-to-Z