Maa Ka Intiqaam

 ماں کا انتقام







ماں کا انتقام

 یہ ان دنوں کی بات ہے جب عباسی خلیفہ معتمد علی دمشق کا گورنر تھا۔
 ایک شخص کی بیٹی کی کانوں میں سونے کی بالیاں پہن رکھی تھی اچانک وہ لڑکی غائب ہوگئی' اس کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا اور اس کے گھر والوں کو شک تھا کہ ان کے پڑوسی نے سونے کی بالیوں کی خاطر ان کی بیٹی کو قتل کرکے کہیں دفن کر دیا ہے لیکن پڑوسی یہ الزام سیخ پا ہوگئے اور جھگڑنے لگے ۔
انہوں نے گورنر تک شکایت پہنچائ 'اس کو گرفتار کر لیا گیا لیکن وہ شخص اپنی چرب زبانی کے ذریعے گورنر کو زیادہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا کہ اس نے ہی جرم نہیں کیا کیونکہ اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا' اس لیے اسے رہا کردیا گیا۔
بچی کی ماں اپنی بیٹی کے غم میں دن رات گھلنے لگی۔
 رو رو کے اس نے اپنا برا حال کر لیا وقت زخموں کے لیے بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حالت بڑی مختلف ہوتی گئی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس غم میں زیادتی اور اضافہ ہوتا چلا گیا۔
 ایک دن اس نے اپنے خاوند سے کہا میں مزید تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی 'میں اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہوں۔
اس لیے تم مجھے طلاق دے دو۔
شوہر بھی اس سے تنگ آگیا تھا اس لیے اس نے اسے طلاق دے دی۔
عدت کے بعد اس نے اپنے پڑوسی کے ساتھ راہ و رسم شروع کر دی یہاں تک کہ اس سے شادی کر لی۔
جب وہ پوری طرح اس خاتون سے مانوس ہو گیا ہے تو ایک دن باتوں باتوں میں اس عورت نے اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھ لیا اس شخص نے یہ سمجھا کہ ہی میری محبت میں گرفتار ہو چکی ہے میری ساتھ اس کی زندگی انتہائی آرام کے ساتھ گزر رہی ہے 'اب اسے بتانے میں کوئی حرج نہیں۔
 اس نے کہا ہاں میں نے اسے قتل کیا تھا۔
خاتون نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کے تم مجھے وہ جگہ دکھاؤ جہاں تم نے اسے دفن کیا تھا۔وہ اسے وہاں لے گیا جہاں اس نے لڑکی کو دفن کیا تھا اس نے وہ جگہ کھودی جیسے ہی بیٹی کی لاش پر نظر پڑی اس نے اپنے کپڑوں میں چھپائی ہوئی تیز دھار چھری نکالی اور اس شخص پر پے در پے وار کرنا شروع کر دئیے اس خاتون پر جنونی کیفیت طاری ہو گئی۔
وہ اس پر اس وقت تک وار کرتی رہی جب تک اسے موت کا یقین نہیں ہو گیا۔
جب لوگوں نے یہ واردات دیکھی تو خاتون کو پکڑ کر خلیفہ کے پاس لے گئے۔خاتون نے ساری کہانی من و عن سنائی۔ یہ سن کر خلیفہ نے کہا تم نے ایک بد نیت شخص کو اس کے انجام تک پہنچادیا۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

حسد کا انجام

Romantic Ghazal

Parabola-Explained-A-to-Z