Control Your Anger

 اپنا غصہ کو قابو میں رکھیں






سلطان محمد تغلق کا ابتدائی زمانہ تھا تھا ایک دن اس نے حضرت شیخ نصیر الدین دہلوی کو دعوت پر بلایا حضرت جانتے تھے کہ وہ نہایت تند مزاج اور غصے والا اور متکبر بادشاہ ہیں اس خیال سے انکار سے فتنے کا اندیشہ ہے اس لئے دعوت میں آگئے۔سلطان نے دعوتکے بعد کہا مجھے نصیحت کیجئے۔حضرت نے فرمایا درندوں جیسا غصہ جو تمہاری طبیعت اور عادت میں شامل ہے ہے اسے چھوڑ دو۔

 سلطان نے ایک تھیلی نقد اور دو قطعہ صوف سبز اور سیاہ شیخ کے آگے رکھ دیے تاکہ وہ خود اپنے ہاتھ سے اٹھائیں۔ نظام الدین جو سلطان کے مصاحبوں اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مریدوں میں سے تھے حضرت شیخ کے آگے سے کپڑا اور زر نقد اٹھا کر خدام کے حوالے کردیا اور حضرت جوتی سیدھی کر کے ان کے سامنے رکھ دی سلطان کو خواجہ کی یہ حرکت ناگوار گزری اور تلوار کھینچ کر کہا کہ تیری کیا مجال اور طاقت کہ تو نے یہ حرکت کی؟
 خواجہ نے کہا کہ اگر میں صوف اور بدرہ کو نہ اٹھاتا تو حضرت انکار فرما دیتے اور حضور کی دل شکنی ہوتی اور حضرت کی جوتیوں کا سیدھا کرنا میرا عین فرض ہے اس جرم پر اگر بادشاہ مجھے قتل بھی کر دے تو میں خوش میرا خدا خوش کیوں کہ بادشاہ کی اس صحبت سے مجھے قیامت تک نجات مل جائے گی۔

 اس لیے ہمیں اپنے غصے پر قابو پانا چاہیے۔۔۔


Comments

Popular posts from this blog

حسد کا انجام

Romantic Ghazal

Parabola-Explained-A-to-Z