سیدہ زنیرہ کی بینائی
سیدہ زنیرہ کی بینائی
سیدہ زنیرہ کی بینائی
سیدہ زنیرہ سیدہ زنیرہ کی ابو جہل کی خادمہ تھی۔ آپ نے کلمہ پڑھ لیا تو ابو جہل کو بھی پتہ چل گیا۔
اس نے پوچھا کیا کلمہ پڑھ لیا؟
فرمایا:ہاں
آپ بڑی عمر کی تھی مشقتیں نہیں اٹھا سکتی تھی مگر ابو جہل نے اپنے دوستوں کو ایک دن بلایا اور اور ان کے سامنے بلا کر انہیں مانا شروع کیا ہے لیکن برداشت کرتی رہی کیونکہ وہ تو حق تعالیٰ کے نام پر اس سے بڑی تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار تھیں۔
جب ابوجہل نے دیکھا کہ اتنا مارنے کے باوجود ان کی زبان سے کچھ نہیں نکلا تو اس نے آپ کے سر پر تو کوئی چیز دے ماری۔
جس سے آپ کی بینائی چلی گئی اور آپ نابینا ہو گئیں۔
اب کفار نے مذاق کرنا شروع کر دیا اور کہنے لگے : دیکھا ہمارے بتوں کی پوجا چھوڑ چکی تھی' لہذا ہمارے معبودوں نے تجھے اندھا کر دیا ہے۔
جب سید زنیرا نے یہ بات سنی تو آپ برداشت نہ کر سکیں چنانچہ فوراً تڑپ اٹھیں۔
اسی وقت کمرے میں جا کر سجدے میں گر گئیں اور اپنے محبوب حقیقی سے راز و نیاز کی باتیں کرنے لگی۔
عرض کیا اے میرے رب! وہ تو یوں کہتی ہیں کہ ہمارے معبودوں نے تمہاری بینائی چھین لی ہے۔
خدایا!جب میں کچھ نہیں تھی تو تو نے مجھے بنایا اور بنائی بھی عطا کی۔
اب تو نے ہی بینائی واپس لے لی۔
یا الہی! تو مجھے دوبارہ دھنائی عطا فرما دے تاکہ ان پر تیری عظمت کھل جائے۔ابھی دعا والے ہاتھ چہرے پر نہیں پھیرے تھے کہ رب العالمین نے آپ کی بینائی لوٹا دی۔۔۔

Comments
Post a Comment