حکایت سعدی
حکایت سعدی
حضرت شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کہ ایک گدھ اور چیل کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ دونوں میں سے کس کی نگاہ تیز ہے۔
گدھ کہنے لگا میری نگاہ تیز ہے جب کہ چیل کہنے لگی کہ میری نگاہ تجھ سے زیادہ تیز ہے۔
دونوں اپنی دعوے کا ثبوت فراہم کرنے کے لئے بلندی کی جانب اڑے۔
جب دونوں بلندی پر پہنچ گئے تو گدھ نے زمین کی جانب نگاہ دوڑاتے ہوئے چیل سے کہا میں زمین پر گندم کا ایک دانہ پڑا ہوا صاف دیکھ سکتا ہوں۔
چیل بولی چلو نیچے چل کر دیکھتے ہیں اگر تمہاری بات سچی ہوئی تو تم جیت گئے اور میں ہار گئی گی۔
پھر دونوں نے غوطہ لگایا اور جب زمین پر پہنچے تو دیکھا وہاں واقعی گندم کا دانہ موجود تھا مگر وہ وہاں بے سبب نہیں تھا بلکہ وہاں ایک شکاری جال لگا رکھا تھا پرندوں کو پھانسنے کے لئے تھا۔
گدھ نے زمین پر اتر کر وہ دانا اٹھانا چاہا تو شکاری کے جال میں پھنس گیا'چیل نے یہ دیکھا تو حیرانگی سے بولیکہ تو نے اتنی بلندی سےگندم کا ایک دانہ تو دیکھ لیا مگر شکاری کا جال تجھے نظر نہ آیا ۔
گندھ افسردہ ہو کر بولا کی تقدیر کا فیصلہ آنے پر عقل جاتی رہتی ہے اور جب قضا اپنا حربہ استعمال کرتی ہے تو تیر نگاہ رکھنے والوں کی بھی نگاہ جواب دے دیتی ہے۔
حضرت شیخ سعدی اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ کہ ہر کام تقدیر کے لکھے کے مطابق انجام پاتا ہے اور خدا عزوجل نے جو اختیارات انسان کو دیے ہیں اگر وہ انہیں صحیح طریقے سے استعمال کرے تو وہ اس کے لیے باعث نجات ہوں گے اور اگر ان کا استعمال نہ جائز ہوگا کہ یہی اس کے لئے وبال ہوں گے۔۔۔

Comments
Post a Comment