ایمان کی فکر
ایمان کی فکر
ایمان کی فکر
سلطان جلال الدین فیروز شاہ خلجی کو بڑی تمنا تھی کہ کسی طرح حضرت نظام الدین اولیاء سے ملاقات کر سکوں۔
حضرت امیر خسرو جو کہ حضرت نظام الدین اولیاء سے تعلق رکھتے تھے اور سلطان کے دربار سے وابستہ تھے.... ان کے سلطان سے اچھے معاملات تھے۔
ان کا اپنے مرشد کے معاملات میں بڑا دخل تھا۔ ایک دن بادشاہ نے امیر خسرو سے مشورہ کیا کہ نظام الدین اولیاء ان کو ملاقات کی اجازت نہیں دیں گے اس لیے وہ اچانک بغیر اطلاع کے پہنچنا چاہتے ہیں۔جس دن وہ خواجہ سے ملنے جائے گا...
امیر خسرو کو ساتھ لے جائے گا۔
حضرت امیر خسرو نے یہ خبر نظام الدین اولیاء کو پہنچادی کہ سلطان ان سے اچانک ملاقات کے لیے حاضر ہونا چاہتا ہے۔
حضرت خواجہ اسی وقت دہلی چھوڑ کر اپنے مرشد خواجہ فرید الدین گنج شکر کے مزار پر جو پاکپتن میں ہے پہنچ گئے۔
سلطان کو خبر ملی کہ خواجہ دہلی چھوڑ گئے ہیں تو اس کو بہت دکھ ہوا کہ نا حق ایک اللہ کے ولی کو تکلیف دی۔
اس نے امیر خسرو کو بلا کر کہا میں نے تو آپ سے ایک مشورہ کیا تھا تم نے راز فاش کر دیا یہ اچھی بات نہیں تم نے کیا سوچ کر ایسا کیا۔
تمہیں سزا کا ذرا بھی خوف نہیں حضرت امیر خسرو نے کسی شاہانہ عتاب کی پروا کئے بغیر کہا میں جانتا ہوں کہ اگر حضور والا ناراض ہوں گے تو میری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن اگر مرشد کو کوئی تکلیف پہنچی تو ایمان کا خطرہ ہے اور میری نظر میں ایمان کے خطرے کے مقابلے میں جان کے خطروں کی کوئی اہمیت نہیں۔
سلطان کو امیر خسرو کا یہ جواب بہت پسند آیا۔۔۔

Comments
Post a Comment