سچی توبہ
سچی توبہ

سچی توبہ
حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں کہ ہمارے محلے میں ایک شخص تھا جو فحش اشارے کرتا تھا اس کے بعض پڑوسیوں نے مجھ سے شکایت کی تو ہم نے اسے بلوایا اور کہا کہا کے پڑوسیوں کو تجھ سے بہت شکایت ہے۔
اب اس کے حل کا راستہ یہی ہے کہ تو یہ محلہ چھوڑ دے۔
تو اس نے کہا میں اپنے گھر میں رہتا ہوں یہاں سے نہیں نکلوں گا۔
ہم نے کہا اپنا گھر بیچ دے تو اس نے کہا میں اپنی املاک نہیں بیچتا۔
ہم نے کہا ہم تیری بادشاہ سے شکایت کریں گے تو اس نے کہا میں بادشاہ کے قریبی لوگوں میں سے ہوں۔
ہم نے کہا ہم اللہ کے حضور تیرے لیے بد دعا کریں گے تو اس نے کہا اللّٰہ مجھ پر تم سے زیادہ مہربان ہے۔
مالک بن دینار کہتے ہیں کہ جب رات ہوئی تو میں نے نماز پڑھ کے لئے اس کے لئےبد دعا کرنے لگا تو ایک غیبی آواز آئی کی اس کے لئے بددعا نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کے اولیاء میں سے ہے تو میں اس کے بعد اس کے گھر کے دروازے پر آیا اور دروازہ بجایا ۔
وہ باہر نکلا "اس کا خیال یہ تھا کہ میں اس کو محلے سے نکالنے کے لیے آیا ہوں۔
اس نے معزرت خواہانہ انداز میں بات کی تو میں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا لیکن میں نے اس اس طرح کی آواز سنی ہے تو یہ سن کر اس پر گرہی طاری ہو گئی اور وہ کہنے لگا اس واقعہ کے بعد میں نے سچی توبہ کر لی تھی۔
اس کے بعد وہ شہر سے چلا گیا اور اس کے بعد میں نے اسے نہیں دیکھا۔
کچھ عرصہ مجھے حج پر جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے مسجد حرام میں ایک اجتماع دیکھا۔
میں آگے گیا تو میں نے اسے بیمار پڑا دیکھا ۔
کچھ ہی دیر بعد لوگوں میں شور بپا ہو گیا کہ وہ نوجوان مر گیا ہے۔۔۔
Comments
Post a Comment