ظالموں کا انجام

 ظالموں کا انجام




ایک بڑا سوداگر تھا۔ اس کے پاس ایک مزدور کام کیا کرتا تھا لیکن سوداگر اس کی تنخواہ نہیں دیتا تھا۔

 آٹھ ماہ ایسے ہی گزر گئے تنخواہ تقریبا چھ ہزار ریال اکٹھی ہوگئی۔ مسکین مزدور نے مطالبہ کیا کہ اس کی مزدوری دی جائے۔

 یہ بھی کہا کہ وہ غریب ہے' بیوی اور معصوم بچے ہیں اور میں کچھ کمانے کے لیے یہاں آیا ہوں۔ سوداگر الٹا ناراض ہو گیا اور ویزے کے دفتر چلا گیا اور مزدور کی واپسی کا پروانہ حاصل کیا اور زبردستی ہوائی جہاز میں بٹھا کر وطن واپس بھیج دیا اور اس کی مزدوری نہیں دی۔

 مزدور بیچارہ اپنے وطن چلا آیا۔

 سوداگر مکہ کا رہنے والا تھا۔کئی سال بعد وہ مظلومکہ میں عمرہ کرنے آیا وہ اس محل کو تلاش کرنے لگا جہاں وہ کام کیا کرتا تھا اسے محل مل گیا' اس کا چوکیدار دوست وہیں تھا وہ باتیں کرنے لگے۔ اس دوران محل کا مالک نکلا جب اس کی نظر مزدورر پر پڑی تو وہ غضبناک ہو گیا اور دھمکیاں دینے لگا۔ کہ کرا دوں گا مزدور بولا میں مالک کے حرم میں تیرے لیے بد دعا کرنے کے لئے آیا ہوں یہ سن کر سودا کرکے کہہ کے بلند ہو گئے ایسی جس میں تحقیر اور امانت کی آمیزش تھی کی چند روز گزرے تھے کہ محل میں آگ لگے اس نے سارے مرد کو حمل لے لیا یا چند لمحوں کے بعد وہ سماں سوداگر بھاگتا ہوا آیا اس کی مہنگی پڑی تھی لہذا ریال تھے اس نے دیکھا کہ ابھی تک ک نہیں پہنچی تو اس نے سوچا ہے کہ داخل ہوتا اور اپنا مال ہو جب وہ اندر جانے لگا تو فائربرگیڈ والوں نے روکا گزر کرتے رہے ہے اندر کو لگ گیا چانک جس کا اندازہ نہیں تھا ہمارا منہ میں کوئلہ بنا دیا اس کے پہلو میں پڑھا تھا جل نہیں تھا لوگوں نے تعجب کیا اور چوکیدار سے پوچھا کہ اسے مزدور نے کیا دعا کی تھی اس نے کہا جب بھی ہے آدمی ہنسا اور کہا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ شخص محل سے خوش ہو سکے اور نہ اندر داخل ہو سکے کے

Comments

Popular posts from this blog

حسد کا انجام

Romantic Ghazal

Parabola-Explained-A-to-Z