Best Islamic Story|UrduPeak
درویش خدا مست
درویش خدا مست
صحابہ کرام حضرت عمرو بن عاص کی سر گردگی میں مصر کے مشہور شہر اسکندریہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے'حضرت عبادہ بن صامت کسی ضرورت سے پڑاؤ سے کچھ فاصلے پر چلے گئے اور ایک جگہ گھوڑے سے اتر کر نماز کی نیت باندھ لی اتنے میں رومی کافر گھومتے ہوئے ادھر نکلے تے انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت کو تنہا نماز پڑھتے دیکھا تو یہ سوچا کہ انہیں قتل کرنے کا اچھا موقع ہے۔
وہ یہ بری نیت لے کر حضرت عبادہ کی طرف بڑے حضرت عبادہ نماز میں مشغول رہے جب وہ بالکل قریب پہنچ گئے تو انہوں نے جلدی سے سلام پھیرا انتہائی پھرتی کے ساتھ چھلانگ لگا کر گھوڑے پر سوار ہو گئے اور رومیوں پر حملہ کر دیا رومیوں کو ایک عابد سے ایسی شجاع کی توقع نہ تھی جب اللہ کا یہ شیر ان کی طرف بڑھا تو وہ وہ گھوڑوں کو موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن حضرت عبادہ نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا وہ سب آگے آگے اور یہ تنہا پیچھے پیچھے۔
جب جان بچتی نظر نہ آئی تو انھوں نے اپنا کچھ قیمتی سامان کمر کی پیٹیاں کھول کھول کر زمین پر پھینکنا شروع کر دیا خیال تھا کہ یہ عرب کا صحرا نشیں قیمتی سامان دیکھے گا تو اس کی لالچ میں ہمارا پیچھا چھوڑ کر سامان اٹھا لے گا لیکن حضرت عبادہ بن صامت سردار عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی تھے انہوں نے سامان کی طرف نظر بھر کر بھی نہیں دیکھا اور تعاقب جاری رکھا یہاں تک کہ رومی بمشکل قلعے کے قریب پہنچے اور اندر گھس کر دروازہ بند کر لیا۔
حضرت عبادہ بن صامت تھوڑی دیر کے لئے قلعے کے اوپر پتھر برساتے رہے اور اس کے بعد لوٹ آئے۔واپسی پر رومیوں کا سامان زمین پر بکھرا پڑا تھا مگر یہ درویش خدا مست اسے اٹھانے میں اپنے وقت کہاں برباد کرتے ؟
واپس اسی جگہ پہنچے اور پھر نماز شروع کردی۔ رومیوں نے سامان جوں کا توں دیکھا تو باہر آکر اسے اٹھا کر لے گئے۔۔۔

Comments
Post a Comment