Hikayat E Roomi Read In Urdu Online
شیر کی زندگی انسان کی موت
حضرت عیسی علیہ السلام ایک روز جنگل میں جا رہے تھے آپ کے ساتھ ایک شخص تھا وہ عرض کرنے لگا لگا حضرت! مجھے بھی مردوں کو زندہ کرنے کا طریقہ بتا دیں دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا معجزے عطا کرنا اللہ کے اختیار میں ہے جس کو وہ اہل سمجھتا ہے عطاکرتا ہے ہر شخص عصا پھینک کر اژدہا نہیں بنا سکتا پھر اس اژدہا کو عصا نہیں بنا سکتا۔ یہ سن کر وہ شخص بولا بڑا یا نبی اگر میری یہ عرض کابل پذیرائی نہیں تو میرے سامنے مردہ زندہ کر کے دکھا دیجئے۔یہ ہڈیاں پڑی ہیں قم باذن اللہ کہہ دیجئے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے عرض کیا یا اللّٰہ یہ شخص ضدی ہے اپنا نفع نقصان نہیں سوچتا تیرا حکم ہو تو اسے معجزہ دکھا دوں حکم ہوا جب یہ اپنی ہلاکت خود خریدتا ہے تو تم بری الذمہ ہو حضرت عیسی علیہ السلام نے قم باذن اللہ کہہ کر پھونک ماری تو ایک بڑا غضب ناک شیر کھڑا ہوا اور اس شخص کے سر پر ایسا پنجہ مارا کہ اس کا بھیجا باہر جا پڑا اور وہ شخص تڑپ تڑپ کر وہیں مر گیا حضرت عیسی علیہ السلام نے شیر سے کہا تو نے اٹھتے ہی اس کا کام کیوں تمام کردہ۔ شیر بولا اس لئے کہ اس نے آپ کو تکلیف دی۔۔۔
مولانا روم رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ بزرگوں کا امتحان نہ لے رسوائی سے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا
Comments
Post a Comment