پرنالے پر بیٹھا بچہ

 پرنالے پر بیٹھا بچہ



  حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھتے تھے کہ ایک عورت ہانپتی کانپتی آئی اور کہنے لگی کہ ایک مشکل آن پڑی ہے۔ خدا کے واسطے اسے حل فرمائیں۔ آپ نے پوچھا کیا معاملہ ہے اس نے عرض کیا میں کوٹھے کی چھت پر بیٹھی کپڑا سی رہی تھی کہ میرا ایک سالہ بچہ میرے پاس سے کھیلتا ہوا گھٹنوں کے بل پر نالے پر پہنچا۔ میں نے بڑا دودھ کا لالچ دیا اور ہر ڈھب سے اسے واپس بلانے کی کوشش کی مگر وہ نالے کے سرے پر جم کر بیٹھ گیا ہے مجھے دیکھ کر مسکرا دیتا ہے مگر ادھر سے ہلنے کا نام نہیں لیتا۔مجھے ڈر ہے کہ وہ پر نالے سے گر کر ہلاک نہ ہو جائے خدا کے لیے کوئی علاج بتائیں کہ وہ میرے پاس پر آجائے آپ نے فرمایا جاؤ اس کا ایک ہم عمر بچہ لے کر چھت پر نالےکے سامنے بٹھا دو۔ جب وہ اپنے ہم جنس کو دیکھے گا تو ہم جنسی کی کشش اسے کھینچ لائے گی۔وہ عورت اپنی بیٹے کی عمر کا ایک بچہ لے گی جسے چھت پر سامنے دیکھ کر پر نالے پر بیٹھا بچہ واپس آگیا اور ماں کی جان میں جان آئی۔ہم جنس کی بڑی کشش ہوتی ہے اللہ تعالی نے اپنی حکمت کاملہ سے انسانوں میں سے ہی انبیاء کو ہدایت کے لئے بھیجا کبھی کوئی فرشتہ نبی بنا کر نہیں بھیجا کیونکہ اس صورت میں انسانوں کا ان سے مانوس ہونا اور بات سننا ممکن نہیں تھا۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

حسد کا انجام

Romantic Ghazal

Parabola-Explained-A-to-Z