اے مشکل کشا

 اے مشکل کشا




ایک عورت بیان کرتی ہے کہ میرے شوہر نے ایک آدمی سے چوبیس ہزار ریال ادھار لیا کئی سال گزر گئے مگر میرے شوہر کے پاس پیسے جمع نہ ہو سکے۔قرض اس کے کاندھوں کو بوجھل کر چکا تھا۔ وہ ہمیشہ غمزدہ اور پریشان رہتے تھے۔خاوند کی اس پریشانی کو دیکھ کر میری دنیا تنگ ہو گی۔رمضان کی ایک رات میں کھڑی ہوئی نماز پڑھی اور بڑے خلوص سے اللہ سے دعا کرنے لگی میں شدت سے رو رہی تھی کہ اللہ تعالی میرے شوہر کا قرض اتار دت۔اگلے دن افطار سے کچھ وقت پہلے میں نے دیکھا کہ وہ فون پر کسی سے بات کر رہے ہیں آواز بلند تھی میں نے سوچا کی کوئی برا معاملہ ہے جلدی سے گئی لیکن فون منقطع ہو چکا تھا۔میںنے پوچھا کیا بات ہے وہ مارے خوشی کے بات نہ کرسکتے تھے نصرت سے ان کے آنسو ٹپک رہے تھے فون والا قرض دینے والا ہی تھا بتا رہا تھا کہ اس نے قرضہ معاف کر دیا ہے اور میں تو بس چپ سی ہو گئی اور کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کروں۔ایسا لگا کہ کوئی پہاڑ میرے سر سے ہٹ گیا۔میں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور قرض خواہ کا بھی شکر ادا کیا۔


نتیجہ۔


 اگر خلوص دل سے مانگا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا کرتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

حسد کا انجام

Romantic Ghazal

Parabola-Explained-A-to-Z